لاج[1]

قسم کلام: اسم مجرد ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - شرم، حیا، لحاظ، غیرت، حجاب، عار۔ 'نوج ایسی علاج بھی کیا" ١٩٤٢ء، سیلاب و گرداب، ١٥ ٢ - شرمندگی، خجالت۔ ٣ - عزت، آبرو، ناموس، حرمت 'ماں باپ کی لاج کے لیے جو تکلیفیں اٹھائیں وہ ثابت کر رہی ہیں وہ کیسی اچھی اور کتنی اچھی بیٹی تھیں"۔      ( ١٩٤٣ء، سیدہ کی بیٹی، ٢٤٣ )

اشتقاق

پراکرت سے اردو میں آیا۔ ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شرم، حیا، لحاظ، غیرت، حجاب، عار۔ 'نوج ایسی علاج بھی کیا" ١٩٤٢ء، سیلاب و گرداب، ١٥ ٣ - عزت، آبرو، ناموس، حرمت 'ماں باپ کی لاج کے لیے جو تکلیفیں اٹھائیں وہ ثابت کر رہی ہیں وہ کیسی اچھی اور کتنی اچھی بیٹی تھیں"۔      ( ١٩٤٣ء، سیدہ کی بیٹی، ٢٤٣ )